بھٹکل:3/ جنوری (ایس اؤنیوز)بجلی میٹر کا بل دینے والے ایک ملازم نوجوان نے اپنے اوپر 4-5افراد پر مشتمل ایک گروہ کی جانب سے مرچی کا پاوڈر پھینک کر قتل کی کوشش کئے جانے کا الزام لگایا ہے۔ مگر ان کی طرف سے لگائے گئے الزامات پر شکوک وشبہات کا اظہار کیا جارہا ہے۔
تعلقہ کے آسارکیری کے مکین ایشور ناگپا نائک نامی شخص نے بھٹکل دیہی پولس تھانے میں شکایت درج کی ہے کہ تعلقہ کے جالی گرام پنچایت حدود کے جاگٹے بائیل کمپاؤنڈ کے اندر موجود ایک میٹر نمبر 33646کی ریڈنگ کے دوران چار پانچ انجان لوگوں نے اس کی آنکھوں میں مرچی کا پاؤڈر پھینک دیا۔ پولس تھانہ میں کیس درج کرتے ہوئے ایشور نائک نے بتایا کہ وہ ان لوگوں سے بچ کر تھوڑی دور بھاگتا ہوا ریت کے ٹیلے پر جا گرا جہاں تعمیراتی کام کرنےو الے مزدوروں کی مدد سے وہ اسپتال پہنچنے میں کامیاب ہوگیا۔ معاملے کی اطلاع پاتے ہی سنگھ پریوار کے کارکنان اسپتال پہنچ کر ملزموں کے گرفتار ی کامطالبہ کرنے لگے۔
گذشتہ کچھ دنوں سے ضلع میں فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دینےکی جو کوششیں ہورہی ہیں، اس بات سے واقف اعلیٰ پولس افسران فوری حرکت میں آ گئے اور جائے وقوع کا معائنہ کیا۔ پولس نے جاسوسی کتوں کا بھی استعمال کیا اور جائے وقوع پر پہنچ کر شکایت کردہ جانکاری کے مطابق ملزموں کاسراغ لگانے کی کوشش کی مگرخبر ملی ہے کہ کوئی مثبت سراغ نہیں مل سکا۔ بتایا گیا ہے کہ شکایت کردہ ایشور گذشتہ ایک دہے سے بھی زائد عرصے سے بجلی بل کانٹراکٹر کے پاس میٹر ریڈنگ کے کام پر مامور ہے۔
خیال رہے کہ کچھ دن پہلے انہوں نے پولس تھانہ میں شکایت کی تھی کہ آسارکیری میں موجود ان کے گھر کے پیچھے والی دکان اور آٹو کو کچھ انجان لوگوں نے آگ لگانے کی کوشش کی مگر ان کے گھر والوں کے فوری باہر آ جانے سے شرپسند فرار ہوگئے۔ ایشور کے خاندان والوں نے اپنے تحفظ کے لئے بھی پولس سے اپیل کی تھی۔
واضح رہے کہ بھٹکل بلدیہ دکانوں کی تحویل کے دوران ایشور کے بھائی رام چندر نایک نے خودسوزی کی تھی۔
شبہات کا چکر: شکایت کردہ ایشور نائک کے گھر کے پیچھے والی دکان اور آٹو رکشا کو آگ لگانے والا معاملہ اور بدھ کو پیش آئے مرچی پاؤڈر پھینکے جانے کی شکایت سے کئی شکوک و شبہات پیدا ہوئے ہیں۔ پولس کے لئے اب لازمی ہوگیا ہے کہ وہ آسارکیری کے ایشور نائک کے گرد گھومنے والے معاملات کی تفتیش کریں۔ پولس کو اب اس بات کا پتہ لگانا ہوگا کہ کیا واقعی ان کا کوئی دشمن ہے ، اگر ہے تو وہ کیا چاہتا ہے۔
یاد رہے کہاسی ایشور نائک کے بھائی رام چندر نائک نے جذباتی اندازمیں بلدیہ دفتر کے اندر خود سوزی کی تھی جس کے بعد بلدیہ دفتر کے اندر ملازمین اور دکانداروں کی طرف سے ہوم ،ہون (خصوصی پوجاپاٹ) کااہتمام کیا گیا تھا، تو اس وقت ایشورنائک نہایت خوف زدہ ہوکر اپنے بھائیوں کے ساتھ جائے وقوع پر پہنچ کر پوجا پاٹ کئے جانے پر سخت اعتراض جتایاتھا۔
یکے بعد دیگرے دو مشکوک شکایتوں کے بعد اب بھٹکل کے عوام اس بات پر تشویش ظاہر کررہے ہیں کہ یہ شخص ان کے مکانوں پر بجلی بل دینے کے لئے اتا ہے جس کے دوران آئندہ کسی پر بھی وہ من مانے الزامات لگا سکتا ہے ۔ لہذا ایسے شخص کا گھروں میں بجلی بل کے لئے آ نا گویا خطرے کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔
اس سلسلے میں بھٹکل ڈی وائی ایس پی شیو کمار نے بتایا کہ ایشور نائک کے دونوں معاملات کی چوطرفہ جانچ کی جارہی ہے۔